Skip to content
Education With Hamza

Literature

Poetry By Allama Iqbal

MAMuhammad Aneeq 1 min read

In short

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے سُورَج کے اُجالے سے، فَضاؤں سے، خَلاء سے چاند اور ستاروں کی چَمَک اور ضیاء سے جنگل کی خاموشی سے، پہاڑوں کی اَنَا سے پُرہَول سَمَندر سے، پُراسرار…

Advertisement

  • ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
    سُورَج کے اُجالے سے، فَضاؤں سے، خَلاء سے
    چاند اور ستاروں کی چَمَک اور ضیاء سے
    جنگل کی خاموشی سے، پہاڑوں کی اَنَا سے
    پُرہَول سَمَندر سے، پُراسرار گھٹاء سے
    بِجلی کے چَمَکنے سے، کَڑَکنے کی صَدا سے
    مِٹّی کے خَزانوں سے، اَنَاجوں سے، غِذاء سے
    بَرسات سے، طُوفان سے، پانی سے، ہَوا سے

  • گُلشَن کی بہاروں سے، تو کَلِیوں کی حَیا سے
    مَعصوم سی روتی ہوئی شَبنم کی اَدا سے
    لَہراتی ہوئی بادِ سَحَر، بادِ صَباء سے
    ہر رَنگ کے، ہر شان کے، پھُولوں کے قَبا سے
    چِڑِیوں کے چَہکنے سے، تو بُلبُل کی نَواء سے
    موتی کی نَزاکت سے، تو ہِیرے کی جِلاء سے
    ہر شے کے جَھلکتے ہوئے فَنکار اور کَلا سے
    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

  • دُنیا کے حَوادِث سے، وفاؤں سے، جَفاء سے
    رَنج و غم، اَلَم سے، دَردوں سے، دَوَا سے
    خُوشیوں سے، تبسُّم سے، مَریضوں کی شِفاء سے
    بَچوں کی شَرارت سے، تو مَاؤں کی دُعاء سے
    نیکی سے، عِبادات سے، لَغزش سے، خَطاء سے
    خُود اپنے ہی سینے کی دھَڑکنے کی صَدا سے
    وَحدت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دِلاسے
    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

  • اِبلیس کے فِتنوں سے، تو آدم کی خَطاء سے
    اَوصافِ اِبراہیم سے، یُوسف کی حَیاء سے
    حضرتِ اَیّوب کی تَسلیم و رِضاء سے
    عِیسیٰ کی مَسیحائی سے، مُوسٰی کے عَصا سے
    نَمرود کے، فِرعون کے اَنجامِ فَناء سے
    کعبہ کے تَقَدُّس سے، تو مَروہ اور صَفاء سے
    تَورات سے، اِنجیل سے، قُرآں کی صَدا سے
    یٰسین سے، طٰہٰ سے، مُزَّمِّل سے، نَباء سے
    اِک نُور جو نِکلا تھا کبھی غارِ حِراء سے
    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

— علامہ محمد اقبال

Found this helpful? Like it or share it with a friend.

Student reviews

-

0 reviews

  • 5 ★0
  • 4 ★0
  • 3 ★0
  • 2 ★0
  • 1 ★0

Advertisement

Poetry By Allama Iqbal | Education With Hamza